ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بسوراج بومئی کا آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن ضوابط پر سختی سے عمل کا اشارہ

بسوراج بومئی کا آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن ضوابط پر سختی سے عمل کا اشارہ

Fri, 21 May 2021 17:30:51    S.O. News Service

بنگلورو،21؍ مئی (ایس او نیوز)ریاستی وزیر داخلہ بسوراج بومئی نے یہاں اس بات کا اشارہ کیا کہ پولیس اور محکمہ داخلہ آنے والے دنوں میں گاڑیاں ضبط کرنے جیسے لاک ڈاؤن اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ریاست کووِڈ 19- کی دوسری لہر سے سنجیدگی کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ان کایہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت ریاست میں جاری لاک ڈاؤن میں ایک اور توسیع کے بارے میں غور کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں ایک دو دن کے اندر کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔

بومئی نے کہا ”دیہی علاقوں میں معاملات بڑھ رہے ہیں۔ لہٰذا مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے لاک ڈاؤن اقدامات سختی سے نافذ کردیئے ہیں۔ لوگوں کو بھی معاملہ کی سنجیدگی کو سمجھنا اور تعاون کرنا چاہئے۔“صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پولیس یا محکمہ داخلہ کی جانب سے جو اقدامات غیر ضروری نقل و حرکت میں ملوث افراد کی گاڑیوں کو قبضے میں لینے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں، ان کو زیادہ مؤثر انداز میں اختیار کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کے لئے لوگوں کو پولیس سے تعاون کرنا پڑے گا۔لاک ڈاؤن میں توسیع سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بومئی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ اس بارے میں 23 مئی کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

کرناٹک حکومت نے ابتدائی طور پر 27/اپریل سے 14دن ”بند“رکھنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے بعد 10مئی سے 24مئی تک مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا، کیونکہ کووِڈ کے معاملات میں اضافہ ہوتا رہا۔موجودہ لاک ڈاؤن کے اگلے ہفتے کے اوائل میں ختم ہونے کے پیشِ نظر وزیروں سمیت متعدد رہنماؤں نے کووِڈ کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے اس میں مزید توسیع کے حق میں بات کی ہے۔اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ وزیر اعلیٰ نے کل مالی پیکیج کا اعلان کیا تھا،بومئی نے کہا کہ اگر مستقبل میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس پر بھی غور کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے چہارشنبہ کے روز کووِڈ 19- پر مبنی لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئے لوگوں کے لئے امداد فراہم کرنے کے لئے 1,250کروڑ روپئے سے زیادہ کے مالی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔حزب اختلاف کی جماعتوں کانگریس اور جے ڈی ایس نے اس پیکیج کو غیر سائنسی اور معمولی قرار دیا ہے۔


Share: